تمنّا بموقعۂ ہفتۂ مدحِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین

1سوشل میڈیا پر بالخصوص اور روایتی دعوتی حلقوں میں بالعموم احبابِ کرام ہفتۂ مدحِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین منا رہے ہیں۔ایسے میں بندۂ فقیر کو مناسب معلوم نہ ہوا کہ وہ بولے بغیر رہے ، اسی واسطے اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو سپردِ قرطاس کرنے کا سوچا۔
صحابہ کون ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں اور ہم آقا کے بھی غلام ہیں اور آقا کے غلاموں کے بھی غلام۔ صحابہ ہمارے دین کی اساس ہیں، دینی فکر کی بنیاد ہیں، صحابہ کی اتباع اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے اور صحابہ پر اعتراض، نبی جی صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض !
حضرتِ امام احمد ابنِ حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’جب تم کسی شخص کو صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کا تذکرہ برے انداز میں کرتے دیکھو تو اس کے مسلمان ہونے پر شک کرو!‘‘۔ (البدایۃ و النھایۃ)
ڈاکٹر شکیل اوج، احمد رجیب حیدر،عامر لیاقت، زید زمان حامد، جاوید غامدی اور طفیل ہاشمی ایسے گستاخوں کے مقابل، صحابہ کی مدحت یقیناً لائقِ حوصلہ افزائی ہے۔ لیکن یہ کل نہیں، کل کا ایک جزو ہے۔ سوچتا ہوں کہ صرف زبانی مدحت سے کیا ہو گا۔ روزِ محشر ابو بکر و عمر، عثمان و علی، محمد بن مَسلمہ، نابینا صحابیٔ رسول عمیر ابن عدی رضی اللہ عنہم اور پھر خود حضرتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کس منہ سے پیش ہوں گا؟ کیسے کہوں گا کہ یا رسول اللہ گستاخ زبانیں حرکت کرتی رہیں اور میں دعوۂ ایمانی کرتا رہا۔۔۔؟
سوچتا ہوں کہ مثلِ ممتاز قادری، عامر چیمہ، کواچی برادران اور علم دین کے، کوئی چاقو، کوئی خنجر، کوئی تلوار، کوئی کلاشن کوف تھام لوں۔ ان غازیوں نے گستاخانِ رسالت کو جہنم واصل کیا، میں انصارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخوں کا صفایا کر دوں۔ روزِ محشر صدّیق و فاروق، غنی و حیدر کے قدموں سے اٹھایا جاؤں، رضی اللہ عنہم۔ ابو بکر و عمر، عثمان و علی اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے سینے سے لگا لیں اور کہیں کہ تُو نے ہماری اور ہمارے صحابہ کی مدحت کا حق ادا کر دیا۔ اللہ میری جانب دیکھ کر مسکرائیں۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔ میں جنت میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور جانثارانِ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جگہ پاؤں۔
کاش میں ایسی مدحت کر سکوں۔۔۔ اے کاش۔۔۔!

Advertisements

لکڑی کا پیالہ

یہ میرے بچپن کا واقعہ ہے۔ کئی سال پرانا۔ میری عمر اس وقت، شاید گیارہ سال تھی۔ ایک روز میرے ابّو جی جان نے ہم سب گھر والوں کو اپنے کمرے میں جمع کیا۔ یہ رات کا وقت تھا، شاید عشاء کے بعد کا۔ ان کا چہرہ قدرے غمگین تھا اور وہ ہاتھ میں ایک کا غذ تھامے ہوئے تھے۔ میں نے سوچا نجانے کیا ماجرا ہے کہ ابّو Old_Timesجی پریشان دِکھ رہے ہیں۔ ابّو جی کا غم سچّی بات ہے نہیں دیکھا جاتا تھا، یہ بات الگ ہے کہ مجھے اپنے ابّو جی جان سے جتنی محبّت ہے کبھی بھی اس کا اظہار نہیں کر پایا، شاید اس کہانی کے توسط سے کچھ ہو جائے۔
ابّو جان اپنی مسہری کی دائیں طرف بیٹھے تھے اور امّی جان بائیں طرف بیٹھ گئیں۔ ہم بہن بھائی، ابّو جی کی مسہری کے ساتھ، نیچے زمین پر بچھے قالین پر بیٹھ گئے۔ ابّو جی جان نے بتایا کہ وہ ہمیں آج ایک کہانی سنائیں گےاور یہ کہانی انہیں ای میل کے ذریعے ان کی بھانجی یعنی ہماری پھوپی زاد بہن نے بھیجی ہے۔ یہ کہانی انگریزی میں تھی۔ ابّو جان نے کہانی سنانا شروع کی(جو میں اپنی زبانی چند اضافوں کے ساتھ پیش کر رہا ہوں):

اس کہانی کا نام ہے: The Wooden Bowl یعنی لکڑی کا پیالہ۔
ایک گھر ہے۔ اس میں چار افراد رہتے ہیں:احمد، سارہ، یوسف اور ابراہیم۔ احمد اور سارہ میاں بیوی ہیں، یوسف ان دونوں کا بچہ ہے، اور ابراہیم، احمد کا باپ ہے۔
یُوسف کے دادا یعنی شوہر کے والد بہت بوڑھے ہو چکے ہیں۔ ان کو رعشہ ہے۔ رعشہ ایسی بیماری ہے جس میں آدمی کا پورا جسم کانپتا رہتا ہے۔ دادا جان جب بھی میز پر اپنے بچوں کے ساتھ کھانے کے لیے بیٹھتے ہیں تو کپ کپی کی وجہ سے کھانا ان کے ہاتھوں اور منہ سے میز پر بھی گرتا ہے اور کپڑوں پر بھی، ایسا منظر جو سب کے لیے بہت برا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی دادا جان کے ہاتھ سے کوئی برتن گر کر ٹوٹ بھی جاتا ہے۔
احمد اور سارہ ایک دِن سوچتے ہیں کہ یہ بوڑھا ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتا ہے، اس کے منہ سے گرتا کھانا ایک مکروہ منظر ہے اور یہ ہمارے برتن بھی گرا کر توڑتا ہے۔ کیوں نہ اس کا کھانا اپنے سے علیحدہ کر دیں اور ایسابرتن بنایا جائے جو گر کر نہ ٹوٹے۔
اس مشورے کے بعد احمد ایک لکڑی کا موٹا سا ٹکڑا لاتا ہے جسے وہ تراش کر ایک پیالے کی شکل دے دیتا ہے۔
اب ابراہیم کو سب کے ساتھ میز پر کھانا دینے کے بجائے علیحدہ سے، لکڑی کے پیالے میں کھانا دیا جاتا ہے۔
وقت گزرتا رہتا ہے۔ میاں بیوی اپنی زندگی کے دورِ شباب سے گزر رہے ہوتے ہیں، ساتھ میں ان کا پھول سا، پیارا سے بیٹا؛ یوسف، ان کی زندگی میں بہار کی مانند ہوتا ہے۔ وہ ایک میز پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ گھر والوں کے ساتھ کھانا کھانے کا کیا ہی لطف ہوتا ہے؛ یہی لطف یہ تین افراد بھی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ کھانے کے دوران خوش گپیاں بھی ہوتی ہیں، پیار کی باتیں بھی، مستقبل کی منصوبہ بندیاں بھی ، ماضی کے مزے دار قصّے بھی۔۔۔ زندگی کا بہت مزہ آ رہا ہوتا ہے۔۔۔ کہ یہاں خوشیوں سے بھری، جوانی، رعنائی اور بچپن کی زندگیاں خوبصورت ندّی کی مانند رواں ہوتی ہیں۔
ان کی میز کے قریب ہی۔۔۔ ابراہیم اپنے کانپتے جسم، لرزتے ہاتھوں کے ساتھ، ’’اپنوں‘‘ کے دِیے ہوئے، اپنے لکڑی کے پیالے میں سے کھانا کھا رہے ہوتے ہیں۔ یہاں کی زندگی بھی کہنے کو رَواں ہوتی ہے مگر ایک بے حرکت تالاب کی مانند۔

——————————-

ایک دِن احمد شام کو گھر لوٹتا ہے تو اپنے چھوٹے سے، نہایت محبوب بیٹے کو ایک لکڑی کے ٹکڑے کے ساتھ کچھ اوازاروں سے زور آزمائی کرتا دیکھتا ہے۔ وہ بیٹے سے پیار بھرے لہجے میں پوچھتا ہے:
’’یوسف بیٹا! کیا کر رہے ہو؟‘‘
’’لکڑی کا پیالہ بنا رہا ہوں!‘‘ یوسف اپنے کام نُما کھیل میں مگن رہتے ہوئے جواب دیتا ہے۔
’’کس لیے بیٹا؟‘‘ احمدحیران ہو کر پوچھتاہے۔vintage-wooden-dough-bowl
’’آپ کے لیے ابّو جان۔ جب آپ دادا جان کی طرح بوڑھے ہو جائیں گے ناں تو آپ کو کھانا اس پیالے میں دیا کروں گا۔‘‘ چار سالہ یوسف نہایت معصومیت سے جواب دیتا ہے۔
یہ جواب احمد کے لیے قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ شاید اس کی جوانی۔۔۔ یکایک، اس معصوم کے، معصوم سے جواب سے بڑھاپے میں بدل جاتی ہے۔ بہار کو خزاں کھا جاتی ہے۔ چڑیاں کچھ دیر کو چہچہانا بھول جاتی ہیں۔ مسکراہٹوں کی جگہ غم ناکیاں لے چکی ہوتی ہے۔ آنکھیں بھر آتی ہیں۔احمد سوچوں کی بھیانک وادیوں میں بھٹکنے لگتا ہے۔ ایسے میں سارہ آواز دیتی ہے کہ کھانا لگ گیا ہے۔ احمد بوجھل قدموں کے ساتھ کھانے کی میز کی جانب بڑھتا ہے۔ وہاں قریب ہی اپنے کپ کپاتے باپ کو لکڑی کے پیالے سے کھاتا دیکھتا ہے۔
وہ آگے بڑھتا ہے اور اپنے بوڑھے باپ سے لکڑی کا پیالہ لے کر ایک طرف کو رکھ دیتا ہے۔ ضعیف باپ کو سہارا دے کر کھڑا کرتا ہے اور چلاتا ہوا، میز کے پاس لا کر اپنی کُرسی پر بٹھا دیتا ہے۔ساتھ ہی خود بیٹھ جاتا ہے اور پھر اپنے بوڑھے باپ کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتا ہے۔
ایک ہی میز پر، اکٹھے کھانا، اور احمد کا اپنے بوڑھے باپ ابراہیم کو اپنے ہاتھ سے کھلانا۔۔۔اس کے بعد ایک معمول بن جاتا ہے۔ اب سب کی زندگی رواں دواں ہو جاتی ہے۔ اب یہاں بچپن، جوانی، رعنائی اور بڑھاپا ایک ہی طرف چل رہے ہیں۔ یہ ایک خاندان ہے، یہاں بہار ہے۔۔۔ خزاں کا دُور دُور تک نام و نشان نہیں۔ معصوم یُوسف کی معصوم سی ادا سب کو، بھا گئی، سب کو، سب کچھ سمجھا گئی۔

یہ بچہ کس کا بچہ ہے؟

بچہ

کبھی صبح سویرے۔۔۔
یا رات گئے۔۔۔
آپ نے شہر کے فٹ پاتھ پر سوتے بچے دیکھےہیں؟
کیا کبھی میں نے اور آپ نے وہاں راہ چلتے، اس بچے کو دیکھا ہے ۔۔۔ اور سوچا ہے کہ یہ بچہ کس کا بچہ ہے؟
یہ بچہ جس کا کوئی گھر نہیں؟
جس کے تن پر کپڑا نہیں، پیٹ خالی ہے اور سر پر چھاتا ہے تو فقط آسمان کا!
یہ بچہ جو ہر روز فٹ پاتھ پر سوتا ہے۔۔۔
جب بھی سڑک پر چلتے۔۔۔ اس جیسے بچوں کو دیکھتا ہوں۔۔۔ تو اپنی ہی خیالی دنیامیں چلا جاتا ہوں۔ سوچنے لگتا ہوں کہ کیا کِیا جائے کہ یہ بچہ ہمارے بچوں کی طرح اچھا کپڑا پہننے لگے۔ یہ بھی پیٹ بھرا سوئے۔شفقت و محبت کی چھت کے ساتھ ساتھ دھوپ اور ٹھنڈ سے بچاتی مٹی گارے کی چھت بھی ہو۔ مگر کیسے؟ لیکن کیسے؟
اپنے ہی ذہن کے ’’مگر‘‘، ’’لیکن‘‘ اور ’’کیسے‘‘ جیسے سوالات پریشان کرنے لگتے ہیں۔۔۔
میں اکثر یہ ہی سوچ کر بکھرنے لگتا تھا۔۔۔آخر کیسے؟
پھر جواب مل گیا!
اپنے بچپن میں پڑھا اپنے اور اپنے ربّ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبصورت سیرت کا ایک واقعہ یاد آگیا اور جواب مل گیا۔۔۔
مدینۂ منورہ ہے۔عید کا دِن ہے۔ سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے جارہے ہیں۔ راہ چلتے ایک بچے سے ملاقات ہوتی ہے۔ یہ میلے سے کپڑے پہنے ہوئے ہے۔ عجیب غربت کی پرچھائیاں اس معصوم کے چہرے پر شاید جھلکتی ہوں۔ اس کا بھی شاید ’’کوئی ‘‘ نہیں تھا؟ شاید لمبا لمبا عرصہ خالی پیٹ گزارتا ہو گا۔ اس وقت چھاتا اس کے سر پر بھی آسمان ہی کا تھا۔
رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس سےآگے بڑھ کر دریافت کرتے ہیں کہ اس حال میں کیوں ہو؟ یہ ننھا معصوم جواب دیتا ہے کہ میرے ماں باپ نہیں۔ شفیق از نفسِ مادر بڑھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں تمہارا باپ ہوں۔ اس یتیم و بے سہارا کو لیےحضرتِ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے گھر چلے جاتے ہیں۔ وہاں فرماتے ہیں کہ اس کو حسن و حسین (رضی اللہ عنہم) جیسا لباس پہناؤ، ان جیسا کھلاؤ۔ اپنے اس امتی بیٹے کو ، سردارانِ نوجوانانِ بہشت حسنؓ وحسینؓ کے ہمراہ عید پڑھنے لے جاتے ہیں۔ یوں یہ غریب، دنیا و آخرت کے امراء میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس کا مستقبل سنور جاتا ہے۔
بس ایسے ہی! ایسے ہی میری اور آپ کی راہ میں، فٹ پاتھ پر سوتے بچے کو پیٹ بھرنے، کپڑا پہننے اور چھت تلے سونے کا موقع مل سکتا ہے۔
یہ بچہ کس کا بچہ ہے؟
یہ میرا اور آپ کا بچہ ہے۔ محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا بچہ ہے۔
بس ایسے ہی۔۔۔ کیسے؟
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی معاشرت کو اپنا کر۔ نبی جی علیہ الصلاۃ و السلام کی شریعت کو لا کر۔ نبی جی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقے اور ان کی مبارک محنت کو زندہ کر کے۔
مل گیا۔۔۔ راہ بتلاتا ستارہ مِل گیا!

میرے خوابوں کا پاکستان

انتہا!

حُسن تیرا جب ہوا بامِ فلک سے جلوہ گر
آنکھ سے اڑتا ہے یک دم خواب کی مے کا اثر
نور سے معمور ہو جاتا ہے دامانِ نظر
کھولتی ہے چشمِ ظاہر کو ضیا تیری مگر
ڈھونڈتی ہیں جس کو آنکھیں وہ تماشا چاہیے
چشمِ باطن جس سے کھل جائے وہ جلوا چاہیے

خواب تو بس اتنا سا ہے۔۔۔ پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ۔۔۔
احیائے اسلام کے عظیم داعی، سید قطبؒ کو مصر میں نفاذِ اسلام کی کوششوں کی پاداش میں پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے۔ انہیں پھانسی گھاٹ پر لے جایا جا رہا ہے۔ ایک سپاہی،  جو پھانسی سے پہلے کلمہ پڑھانے پر مامور ہے ، آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے: ’’ سید کلمہ پڑھ لو، پھانسی ہونے والی ہے‘‘۔  سید صاحب اس کی جانب مڑے اور فرمایا، ’’کون سا کلمہ۔۔۔ جس کی وجہ سے تمہارا روزگار لگا ہوا  ہے، یا جس پر عمل…

View original post 224 more words

میرے خوابوں کا پاکستان

’’ہم تحریر لکھنے کا ایک مقابلہ کروا رہے ہیں، ’’میرے خوابوں کا پاکستان‘‘ ہو سکے تو تم بھی لکھ ڈالو۔۔۔ دو چار جملے!‘‘

’’میرے خوابوں کا پاکستان۔۔۔؟‘‘

’’ہاں!‘‘

’’مگر وہ تو کوئی چرا کر لے گیا!‘‘

’’چرا کر لے گیا؟ کون چرا کر لے گیا بھئ؟‘‘

’’ایک زمانے میں اس کو غلام محمد کہتے تھے، پھر وہ ایوب کہلانے لگا، ایک دہائی بیتی وہ یحییٰ کے نام سے مشہور ہوا۔۔۔ پھر کبھی بھٹو کہلایا، کبھی ضیاء۔۔۔ ایسی ضیاء جس کا مصدر شاید ظلمت ہی کو ہونا چاہیے۔۔۔خیر پھر اس نے بے نظیر کہلوانا پسند کیا، پھر نواز شریف، پھر پرویز، پھر زرداری۔۔۔ القاب و خطابات تو اس نے کئی بدلے ہیں، کئی اختیار کیے مگر اس کا نام ’چور‘ ہے، چرانے والے کو ’چور‘ ہی کہتے ہیں، بس شکل بدلتا ہے، حلیے تبدیل کرتا ہے اور اپنی کارراوئی جاری رکھتا ہے۔۔۔!‘‘

——————————

میرے خوابوں کے پاکستان کی فیصل مسجد

میرے خوابوں کے پاکستان کی فیصل مسجد

’’میرے آباء و اجداد نے یہ پاکستان تو نہ بنایا تھا۔ میرے نانا ابّا تو ہندوستان سے ہجرت کرتے ہوئے یہ نعرہ لگاتے آئے تھے ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ‘‘۔ یہ وہ پاکستان تو نہیں جس کا مطلب لا الٰہ الا اللہ تھا! یہاں تو ہر موڑ پر اللہ کے علاوہ سجدے ہیں، کہیں ہندوستان کی دراندازی پر تحمل ہے کہیں امریکہ کے سامنے رکوع و سجود!

میرے خوابوں کا پاکستان تو وہ تھا جہاں کوئی بچہ فٹ پاتھ پر رات نہ گزارے۔ جہاں امن و آشتی کا دور ہو۔ جہاں کسانوں کی مٹی سونا اگلتی ہو۔ جہاں کوئی چوری نہ ہو۔ جہاں بہن کی عزت بچانے والے شاہ زیب خان شہید نہ ہو تے ہوں۔ جہاں افطاری کا سامان لاتا کوئی غریب ٹیکسی ڈرائیور کسی وردی میں ملبوس شخص کی گولی کی بھینٹ نہ چڑھتا ہو۔جہاں کی مساجد جنگ کا میداں نہیں، جائے حرمت و اعزارِ دیں ہوں ۔ جہاں عافیہ صدّیقی جیسی مثالیں نہ ہوں۔ جہاں کوئی بنگلادیش نہ ہو۔ جہاںشمسی ائیر بیس نہ قائم ہو۔ جہاں پنچھی آزادی کی فضا میں ہواؤں میں تیرتے ہوں۔ جہاں یاسمین و گلاب کھلتے ہوں۔ جہاں ہریالی ہی ہریالی ہو سبزہ و شادابی۔۔۔ایسا تھا میرے خوابوں کا پاکستان۔۔۔‘‘

’’مگر کیسے بنے گا یہ تمہارے خوابوں کا پاکستان؟‘‘

’’کیسے۔۔۔؟ بالکل ویسے، جس طرح ہمارے آباء نے اس کو بنانا چاہا تھا۔۔۔ لاالٰہ الا للہ کہہ کر!

لا الٰہ الا اللہ کے مطلب پر غور کر کر۔ وہ لا الٰہ الا اللہ جس کے ساتھ میرے نبیٔ مہربان، رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا نام جڑا ہے، محمد رسول اللہ۔ اسی لا الٰہ الا اللہ کو ایک بار پھر اپنا نعرہ بناکر۔ اسی لا الٰہ الا اللہ کو اپنے بدن پر لاگو کرنا ہے۔۔۔ اپنے گھر میں اس کے معنی و احکام کو جاری کرنا ہے، معاشرے کا رواج بنانا ہے، ملک و ملت کا قانون بنانا ہے، اپنے لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے مبارک عَلَم کو سارے عالم میں بلند کرنا ہے۔ ایک بار دل سے یہ کلمہ پڑھنا ہے۔۔۔ اس کا اقرار زبان و دل کو کروانا ہے۔۔۔ اس کی عظمت کے سامنے دل و دماغ کو تسلیم کروانا ہے۔۔۔

بس اتنا آسان ہےبنانا۔۔۔ میرے خوابوں کا پاکستان! ‘‘

——————————

یہ تحریر "اردو بلاگستان” کے مقابلے "میرے خوابوں کا پاکستان” کے لیے لکھی گئی۔ تحریر لکھنے کی غایت "مقابلہ” نہ تھی، مقصود اپنے خوابوں کے پاکستان کی منظر کشی تھا!

لال و رابعہ: میرا انتخاب ہیں!

شام و مصر و برما میں لاشیں گر رہی ہیں۔۔۔
وہاں میرے بچوں کو کند چھریوں سے ذبح کیا جا رہا ہے۔۔۔
لال مسجد کو لال کرنے والوں کی طرح، مصر ی فوج کی وردی میں موجود فرعون: مساجد میں قائم موبائل ہسپتالوں میں موجود زخمیوں کو تیل چھڑک چھڑک کر آگ لگارہے ہیں۔۔۔
مصر میں تین ہزار اہلِ ایمان، جن میں میرےنونہالوں اور میری بہنوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے ، پر راکٹوں اور گولیوں کی برسات جاری ہے۔۔۔
قاہرہ کی کسی شاہراہ پر میرے بھائی کو بکتر بند گاڑیوں کے ٹائر وں ، فوجی ٹینکوں تلے روندا جا رہاہے۔۔۔
میری لال مسجد پر حکومتی ٹھیکیداروں کے تعاون سے نئی اینٹوں کا خول تو چڑھایا گیا ہے،مگر اس کی تہوں میں رچی بسی،اس کی فضاؤں میں مہکتی شہیدوں کے خون کی خوشبو مجھے ابھی تک محسوس ہو رہی ہے۔۔۔
لال مسجد سے لے کر مسجدِ رابعہ عدویہ والوں تک کا مطالبہ تو سنیے ذرا۔۔۔ کہتے کیا ہیں یہ لوگ؟ یہ جن پر ظلم کے گراں پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، مگر استقامت ہے کہ اپنی جگہ سے ہلتے ہی نہیں یہ دیوانے! اس شمع کا نام کیا ہے کہ جس پر یہ جانیں وار رہے ہیں؟اس جام کو کیا کہتے ہیں کہ جس کے یہ پیاسے ہیں؟ چاہتے کیا ہیں یہ؟ کیوں چاہتے ہیں؟
سوال :کہتے کیا ہیں یہ لوگ؟
جواب: یہ لوگ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہنے والے ہیں۔
سوال: جس شمع پر یہ جانیں وار رہے ہیں اس کا نام کیا ہے؟
جواب: اس شمع کا نام اسلام ہے، اس شمع کا خالق خود اللہ ربّ العالمین ہے۔
سوال: یہ کس جام کے پیاسے ہیں؟
جواب: یہ جامِ شہادت پینا چاہتے ہیں، ان کا ساقی خواد الٰہ العالمین ہے، اپنے بندوں سے بہت محبت کرنے والا۔
سوال: یہ چاہتے کیا ہیں؟
جواب: یہ اللہ کا نظام چاہتے ہیں ۔
سوال: کیوں چاہتے ہیں؟
جواب: کہتے ہیں ربّ کی دھرتی ہے، اسی کانظام ہونا چاہیے۔ یہ نظام ہو گا تو زمان و مکاں سنور جائیں گے، باغوں میں بہار آجائی گی، چڑیاں پھر سے آزادی کی فضا میں چہچہانے لگیں گی، شیر اور بکری: محاورتاً نہیں حقیقتاً ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے۔ کوئی عورت اپنے سونے کے زیورات اچھالتی اپنے گھر سے دُور کا ارادہ باندھے نکلے گی، مگر اس کو اللہ جلّ جلالہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا۔خیرات دینے کے لیے کوئی شخص تلاشتا پھرے گا مگر اس کو کوئی مستحق نہ ملے گا۔ کوئی یتیم بے آسرا نہ ہوگا۔ کسی کی بیٹی جہیز جمع کرنے کے انتظار میں بِن بیاہی جوانی سے بڑھاپے میں داخل نہ ہوگی۔ لوگ نظریں جھکا کر چلنے والے ہوں گے، کسی کی بہن بیٹی پر آوازہ کسنا اور بری نظر سے دیکھنا تو دُور کی بات، ہر ہر شخص اپنی مسلمان بہن بیٹی کا محافظ ہو گا۔کوئی بھوکے پیٹ رات نہ کاٹے گا۔ کسی دارالاسلام میں رہنے والے یا معاہدے میں داخل غیر مسلم سے کوئی زیادتی نہ کی جائے گی۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے الفاظ تو احاطہ ہی نہیں کر سکتے اس نظام کی برکات کا جو یہ چاہتے ہیں۔ اس نظام کا بنانے والا، وہ رب جس کے نزدیک دین فقط اسلام ہی ہے، وہ فرماتا ہے:

وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌO

ترجمہ: ’’اور زمین میں جتنے درخت ہیں، اگر وہ قلم بن جائیں، اور یہ جو سمندر ہے، اس کے علاوہ سات سمندر اس کے ساتھ اور مل جائیں، (اور وہ روشنائی بن کر اللہ کی صفات لکھیں) تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔‘‘ سورۃ لقمان: ۲۷

————————

کیا آپ جانتے ہیں کہ مصر میں حالیہ فوجی بغاوت اور اس کے نتیجے میں ہزاروں اہلِ ایمان کا قتل جب شروع ہو تو مصری فوج اور اس کے جرنیل۔۔۔ فرعونِ اعظم ’’رعمسیس کے جانشین سیسی ۔۔۔ جس کا نام بھی فرعون جیسا، کام بھی فرعون جیساہے ۔ ۔۔ اسے طاغوتِ اکبر امریکہ نے ان خدمات کے صلے میں کیا عنایت کیا؟
ایف۔سولہ طیارے!
کیا آپ کو یاد ہے کہ امریکہ ’بہادر‘ نے لال مسجد میں اہلِ ایمان کے خون بہانے کےاعزاز میں جنرل پرویز اور ہماری افواج کیا عطا کیا تھا؟
جی ہاں! ایف سولہ۔طیارے!
کیا آپ جانتے ہیں کہ لال مسجد میں نہتی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے والوں سے لے کر رابعہ عدویہ مسجد میں نہتی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے والے لوگ کیا کہتے ہیں؟ جو شیر خوار بچوں کو قتل کرتے نہیں چُوکتے، جنہیں رحم نامی جذبہ چُھو کر بھی نہیں گزرا، یہ کس کی خاطر ان معصوموں کو مار رہے ہیں اور اپنی جانیں ہار رہے ہیں؟ یہ بھی تو کسی جام کے مستحق ہیں ناں، مگر کس جام کے؟ چاہتے کیا ہیں یہ؟ کیوں چاہتے ہیں؟
سوال :کہتے کیا ہیں یہ لوگ؟
جواب: یہ لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ سپر پاور ہے اور اس کی پاور میں کوئی ’’شریک‘‘ نہیں، وہی سب سے بڑا ہے۔
سوال: جس کی خاطر یہ جانیں ہار رہے ہیں، اس کا نام کیا ہے؟
جواب: اس کا نام بغاوت ہے، اس کا نام سرکشی ہے، اپنے ربّ سےسرکشی ، وہ سرکشی جس کا آغاز آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے سے ہوا تھا۔
سوال: یہ کس جام کے مستحق ہیں؟
جواب: جو اعمال و افعال یہ کر رہے ہیں، تو ایسے کام کرنے والوں کو پیپ پلائی جائے گی، جہنم میں ایسی حرکتیں کرنے والوں کے لیے کھولتا ہوا پانی ہے۔
سوال: یہ چاہتے کیا ہیں؟
جواب: یہ دجّالی نظام چاہتے ہیں، کہیں اس کو جمہوریت کہتے ہیں، کہیں اس کو آمریت کہتے ہیں، ان کے نظام کا نام بھی دجل ہی ہے، شاید اس سے بڑھ کر کوئی تعریف نہیں ان کے نظام کی۔
سوال: کیوں چاہتے ہیں؟
جواب: کہتے ہیں امریکہ بہت بڑا ہے اسی کا ورلڈ آرڈر چلنا چاہیے۔ زمان و مکاں پر اسی کی حکومت ہونی چاہیے، باغوں کو اجڑا ہی رہنا چاہیے، چڑیوں کو پنجروں میں ہی قید رہنا ہو گا، شیر اور بکری کیا۔۔۔؟ یہ چاہتے ہیں کہ بکریاں بھی آپس میں لڑنے لگیں۔ کسی کا مال محفوظ نہ ہو، سڑکوں پر موبائل چھنتے رہیں، ڈاکے پڑتے رہیں، چوریاں ہوتی رہیں، آخر ان کے سوئس بینک بھی تو ایسے ہی بھریں گے ناں۔ یہ چاہتے ہیں ہر شخص ان کے ’خدا‘ امریکہ کا بھکاری ہو، سدا مستحق ہی رہے اور اس کو حق کبھی نہ ملے، کبھی ورلڈ بنک کے چکر کاٹے تو کبھی آئی۔ایم۔ ایف کے در کے۔ یہ چاہتے ہیں کہ وڈیرے اور جاگیر دار یتیموں کا مال یوں ہی ٹھیلتے رہیں، یوں ہی ان کی زمینوں پر غاصبوں کا قبضہ رہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ جوان بیٹیاں گھروں میں بیٹھی رہیں، معاشرے میں رائج جہیز کی لعنت یونہی پھلتی پھولتی رہے، شادیاں بڑی بڑی عمروں میں جا کر ہوں اور ہوں بھی تو ہندوانہ کلچر کی مہندی، مایوں، ابٹن اور نجانے کن کن خرافات کے ساتھ ہوں، جن میں لاکھوں روپیہ بہایا جائے کہ غریب باپ اس کا تصور کر کے پہلے بیٹی کو قتل کرے اور پھر خود سوزی کر لے، آخر انہیں اس خود سوزی کرنے والے کے حق میں تقریر بھی تو کرنی ہے، سِول سوسائٹی میں مقام بھی قائم رکھنا ہے۔ یہ چاہتے ہیں لوگوں کی نظریں آوارہ ہوجائیں، کسی بہن بیٹی کی عزت محفوظ نہ رہے، معاشرہ بد چلن ہو جائے، بدکاری گھر گھر میں ڈیرے ڈال لے۔ لوگ یونہی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارتے رہیں، غریب ماں اور اس کا بچہ بھوک سے بلک بلک کر مرجائیں۔مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں ہی کے لیے کہیں صومالیہ سجا ہو اور کہیں نائجیریا۔ یہ کہتے ہیں کہ شیطنت کا راج ہو، ہر سُو تاریکی ہو، ہر سُو اندھیرا ہو ۔۔۔ باطل کا بول بالا ہو اور گھپ اندھیرا ہو ۔۔۔ گھپ اندھیرا!

————————

بس تو پھر میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔۔۔!
میں قاہرہ کی رابعہ عدویہ مسجد والوں کے ساتھ ہوں، میں اسلام آباد کی لا ل مسجد والوں کے ساتھ ہوں، میں نہیں چاہتا کہ میرا حشر ’رعمسیس‘ کے ساتھ ہو، پرویز و سیسی اور ان کے ’’خدا‘‘۔۔۔ڈوبتی کشتی کے ناخدا ۔۔۔امریکہ کے ساتھ!
لال و رابعہ: ہی میرا اِنتخاب ہیں!

نجانے کیوں۔۔۔؟

میں ذرا عجیب سا آدمی ہوں۔۔۔نجانے کیوں؟
میں سوچتا ہوں کہ حق کا میدان تو اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے چوراہوں پر بڑے بڑے جلسوں اور احتجاجی مظاہروں کی صورت سجا ہے۔۔۔
حقیقی مورچے تو کانفرنس ہالوں کی گول میزیں ہیں۔۔۔
اصل شجاعت تو امریکی سفارت خانے کے باہر ببانگِ دہل، امریکہ مخالف نعرہ لگانا ہے۔۔۔
جہاد تو تقریر میں دشمن کے دانت کھٹے کرناہے۔۔۔
تقدیسِ قلم تو اسی نظام میں رہتے ہوئے ایک اچھےحزبِ اختلاف کے رکن کی حیثیت سے سلطانِ جابر پر  تنقید کرنا ہے۔۔۔
کیا ہوا جوپارلیمنٹ میں حقوقِ نسواں بل پاس ہو گیا؟اچھی تہذیب تو جمہوری رویوں کا فروغ ہے۔۔۔
نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کا بدلہ تو مغربی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ہے۔۔۔
میں سوچتا ہوں، حق و باطل کا معرکہ تو درج بالا محاذوں پر لڑا جارہا ہے۔۔۔
مگر نجانے کیوں ڈرون حملے وزیرستان میں ہورہے ہیں؟
نجانے کیوں۔۔۔؟